عدالتی تقرری ||آئین کا آرٹیکل 200کیاکہتاہے،||مااہرین قانون کی رائے||

Опубликовано: 10 Июнь 2026
на канале: Qanoon Go TV
500
1

اسلام آباد بار کی نمائندہ تنظیموں کے اعلامیے میں ہائی کورٹ کے ججز کے حالیہ ٹرانسفر کو اعلامیے کے پیرا نمبر 1 میں تین وجوہات کی بنیاد پہ رَد کیا گیا ہے. وہ تین وجوہات درج ذیل ہ#vlogger #vlog #youtube #vloggerlife #vlogs #vloggers #youtuber #vloglife #blogger #vlogginglife #vloger #vlogsquad #vloggerlifestyle #travel #youtubers #photography #lifestyle #instagram #youtubechannel #vloggingcamera #travelblogger #bloggerlifestyle #follow #video #contentcreator #vlogchanel #blog #bloggerlife #blogging
تینوں نکات کا تجزیہ کرنے سے قبل یہ بات جاننا ضروری ہے کہ مذکورہ اعلامیہ میں یہ گراؤنڈ نہیں لیا گیا کہ حالیہ ٹرانسفر "غیر آئینی اور غیر قانونی" ہے لہذا اس معاملے کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کو کیونکہ ہماری تینوں نمائندہ تنظیموں نے اُٹھایا ہی نہیں ہے اس لیے اس نقطے پہ زیادہ بات کرنا مناسب نہیں. تاہم for ease of reference یہ دیکھ لیجئے کہ 26 ویں آئینی ترمیم سے قبل ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے پہ آئین کا آرٹیکل 200 کیا کہتا؟

200. Transfer of High Court Judges.__ (1) The President may transfer a Judge of a High Court
from one High Court to another High Court, but no Judge shall be so transferred except with his consent and after consultation by the President with the Chief Justice of Pakistan and the Chief Justices of both High Courts.

یعنی صدرِ پاکستان کسی بھی ہائیکورٹ کے کسی بھی جج کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر کر سکتے ہیں بشرطیکہ 1) وہ جج خود راضی ہو اور 2) چیف جسٹس پاکستان اور 3) متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز سے مشاورت کی جائے.

یہ ایک آرٹیکل اُن تینوں grounds کی نفی کیلئے کافی ہے جو بار نمائندگان نے اپنے تحریری اعلامیے میں بیان کئیے ہیں.

جب تحریری آئین اور قانون بن گیا تو پھر independence of judiciary وہی ہے جو آئین و قانون بیان کرتا ہے. پھر regional representation کا اصول بھی وہی ہے جس کو آئین و قانون recognize کرتے ہیں. اور تیسرا یہ کہ جب آئین نے ججز ٹرانسفر کی بات لکھ دی، اجازت دے دی، تو پھر مذکورہ ٹرانسفر سے IHC کی independence کیسے undermine ہو گئی؟ کیونکہ independence بھی وہی ہے جس کو آئین و قانون recognize کرتے ہیں.

عدلیہ کی آزادی تب متاثر ہوتی جب "عدلیہ سے باہر" کے لوگوں کو لا بِٹھایا جاتا. کسی جرنیل کو، ایٹمی سائنسدان کو، ڈینٹل ڈاکٹر کو. لیکن جنہیں لایا گیا ہے وہ تو عدلیہ کے اپنے ہی ادارے کے لوگ ہیں. تو وہ ایک عمارت میں بیٹھ کر فیصلہ کریں یا دوسرے شہر کی دوسری عمارت میں، فیصلہ تو بہرحال عدلیہ ہی کے ہاتھ میں ہے. تو عدلیہ کی آزادی کیسے متاثر ہو گئی؟

ایسے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کی autonomy تب متاثر ہوتی جب لاہور ہائی کورٹ کا کوئی جج، لاہور ہائی کورٹ میں بیٹھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کو کنٹرول کرتا. لیکن جب جج یہاں ٹرانسفر ہو گیا ہے تو اب وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حصہ ہے، وہ اِس ادارے کا حصہ ہے اور اسکا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ ہی کہلائے گا نہ کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ. مذکورہ فیصلوں کے crown اِسی ہائیکورٹ کے کندھوں پہ سجیں گے. جو پہلے کی طرح autonomous ہی ہونگے.

یا تو آپ یہ بیانیہ بنائیں کہ درآمد شدہ ججز نے آئین کا حلف نہیں لے رکھا. وہ ججز عدلیہ کے ادارے سے نہیں. وہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے رہے یا آئندہ نہیں کریں گے. یا وہ قابل نہیں. یا وہ جج بننے کے eligible ہی نہیں تھے. ان کی initial appointments ہی غلط ہیں. تب تو کوئی بات بنتی ہے. پھر اِن arguments کو دیکھا جاسکتا ہے. لیکن یہ تو آپکا argument ہی نہیں ہے.

اب رہی سینیارٹی کی بات، کہ ٹرانسفر ہونے والے ججز کی سینیارٹی کیسے طے ہوگی؟ تو سروس لاء کا General اصول ہے کہ ٹرانسفر پوسٹنگ "نئی تعیناتی" یا "از سرِ نو تعینات" نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ سروس کی ہی extension میں ایک نئی ذمہ داری ہوتی ہے. آئینِ پاکستان ميں موجود ججز کے جس حلف کا بہت زکر کیا گیا ہے اس میں واضح لکھا ہے کہ؛
I will discharge my duties, and perform my functions _____________ in accordance with the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan and the law…

تو آئین کا آرٹیکل 200 بھی اسی آئین کا حصہ ہے جس پہ عمل کرتے ہوئے جج ٹرانسفر ہوکر دوسری ہائی کورٹ آ گیا اور اب وہاں اپنے "کارہائے منصبی" سرانجام دیگا. تو یہ تو عین حلف کی پاسداری ہے، حلف کی خلاف ورزی نہیں.

اعلامیے اور پریس کانفرنس سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وکلاء نمائندوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ مذکورہ ٹرانسفرز 26 ویں ترمیم کی وجہ سے نہیں ہوئیں بلکہ ٹرانسفر کا اختیار پہلے سے آئین میں موجود تھا. لہذا حالیہ ٹرانسفرز کو 26 ویں ترمیم سے جوڑنا شاید درست قانون و آئینی پوزیشن سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے. اب ایک نکتہ یہ بھی ملاحظہ فرما لیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ جس قانون کے تحت وجود میں آئی، اس میں پہلے دن سے یہ بات درج ہے کہ اس میں دیگر صوبوں سے ججز لائے جا سکتے ہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کی شق نمبر 3 ملاحظہ فرمائیں
3. Islamabad High Court.___ (1) The Islamabad High Court shall consist of a Chief Justice and nine other Judges to be appointed from the provinces and other territories of Pakistan, in accordance with the Constitution.

.

02/02/2025