خواجہ فرید یونیورسٹی
رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی میں کرپشن اور بد انتظامی کی وجہ سے ملازمین کے احتجاج کا 67واں روز بھی گزر گیا۔ تحریری طور پہ جمع کروائے گئے ملازمین کے مطالبات پہ کوئی ردعمل نہیں آیا۔ مطالبات میں اساتذہ کی تذلیل بند کرنا، ملازمین کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی سے پرہیز کرنا، منتخب کی گئی غیر قانونی کمیٹی کو تلف کرنا، تصدیقی مہرے کے طور پہ چیرمین شعبہ چات کا استعمال بند کرنا، غیر قانونی بھرتیوں سے پرہیز کرنا، انتظامیہ میں مستقل ملازمین کی بجائے عارضی ملازمین رکھنا تاکہ ان پہ نوکری کا خوف برقرار رکھا جا سکے اور غیر قانونی کاموں میں معاونت ملتی رہے، اہم شعبہ جات سے اپنے رشتہ داروں کو ہٹانا جیسے یونیورسٹی کا ٹیسٹنگ ڈیپارٹمنٹ جو ابتدائی طور پہ ایک درخواست گزار کا ٹیسٹ لیتا ہے قابلیت دیکھنے کے لئیے شامل تھے۔
انتظامیہ کی سفاکیت کا یہ عالم ہے کہ ان کا جواب دینے یا ان پہ کوئی عمل کرنے کی بجائے اس نے اساتذہ اور ملازمین کو جوابدہ خطوط (Explaination Letters) جاری کرنا شروع کر دئیے اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ انتظامیہ موجودہ حالات کی زمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں جبکہ یہ سب باتیں ہم نے انہیں ثبوت کے ساتھ فراہم کیں۔ بجز کہ یہ انتظامیہ ہمارے مطالبات کا جواب دیتی انہوں نے ہمارے اساتذہ کے خلاف تنخواہیں، ان کے ای میل، MIS اکاونٹ اور ان کا گیٹ بند کرنے کے آڈر جاری کرنے شروع کر دئیے۔ رشتہ داروں، چیلوں اور چیلوں کے رشتہ داروں کی غیر قانونی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور بغیر ٹیسٹ اور واجبی انٹرویو سے گزر کر 14 سکیل سے 16 سکیل تک کا سفر چاپلوسی اور خوشامد کے زرائع سے ادا کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمیں تابع فرماں لوگ چاہیں نہ کہ قابل اور خودی والے۔
ہم بھرپور اپیل کرتے ہیں رحیم یار خان کی انتظامیہ سے، یہاں کے سیاستدانوں سے، وکلا سے، سول سوسائٹی سے، صوبائی وزیر تعلیم سے، وزیر اعلیٰ پنجاب سے، گورنر پنجاب سے، قومی وزیر تعلیم سے اور وزیراعظم سے کہ ہماری داد رسی کی جائے اور مظلوم اساتذہ اور ملازمین کی آواز سنی جائے۔ انتظامیہ کو مزید ظلم کرنے سے روکا جائے۔ ہمیں ہمارا حق تحریم کے ساتھ واپس کیا جائے۔