Sermon of Lady Zaynab (a) in Damascus.
This sermon highlighted the sacrifice of Imam Hussain a.s in Karbala and made it sure that it remain prominent in the history of Islam till the end of the world.
Khutba Bibi Zainab | Darbar e Yazeed | Sham |
1 Safar 61 Hijri
بی بی زینب کا جلالی خطبہ
شام میں حضرت زینب کا خطبہ یا دربار یزید میں حضرت زینب کا خطبہ، اس خطبے کو کہا جاتا ہے جسے حضرت زینب (س) نے واقعہ کربلا میں امام حسین (ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کی شہادت کے بعد جب اسیران کربلا کو شام میں یزید کے دربار میں میں لے جایا گیا تو اس وقت ارشاد فرمایا۔ دربار یزید میں دیئے گئے حضرت زینب اور امام سجاد (ع) کے خطبات نے یزید کے درباریوں پر اس قدر اثر چھوڑا کہ اس کے دربار میں ہی اہل بیت (ع) کی حمایت ہونے لگی۔
اس خطبے میں جن موضوعات کی طرف اشارہ کیا گیا وہ یہ ہیں: پروردگار عالم کی حمد و ثنا اور پیغمبر اسلام(ص) پر درود و سلام، کفار کو مہلت دینے کی الہی سنت، یزید کا پست کردار، یزیدیوں پر لعنت، ظالموں اور ستمگاروں کی عاقبت، خداوند کی بارگاہ میں شکایت، اہل بیت کی جاودانی۔
روز عاشورا کو امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد آپ کی اہل بیت کو دوسرے بازماندگان کے ساتھ اسیر کیا گیا۔ اسیران کربلا کے اس قافلے کو کوفہ میں دربار ابن زیاد اور کوفہ و شام کے بازاروں سے لے کر یزید کے دربار تک لے جایا گیا۔ جب شام کے سرکردگان جنہیں یزید نے جنگ میں اپنی کامیابی پر جشن منانے کیلئے دعوت دی تھی، یزید کے محل میں پہنچے تو اس نے اسیران کربلا کو شہدائے کربلا کے کٹے ہوئے سروں کے ساتھ اپنی محفل میں لانے کا حکم دیا۔[1]
جب یزید کے دربار میں زینب کبری(س) کی نظر اپنے بھائی امام حسین(ع) کے کٹے ہوئے سر پر پڑی تو ایک نہایت ہی افسردہ آواز میں فریاد بلند کی:
اے حسین اے محبوب رسول خدا،اے فرزند مکہ و منا، اے فرزند فاطمہ زہرا(س) سیدۃ نساء عالمین اور اے فرزند بنت مصطفی(ص)۔
اس واقعے کے راوی نقل کرتے ہیں: خدا کی قسم حضرت زینب(س) کی اس فریاد کے ساتھ یزید کے دربار میں موجود تمام لوگوں نے رونا شروع کیا اس موقع پر یزید بھی خاموش بیٹھا تھا!!
یزید نے چھڑی لانے کا حکم دیا پھر اس کے ساتھ امام حسین(ع) کے مبارک ہونٹوں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ "ابو برزہ اسلمی" (جو کہ پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ میں سے تھا، وہ بھی یزید کے دربار میں حاضر تھا) نے یزید سے مخاطب ہو کر کہا:اے یزید! آیا اس چھڑی کے ساتھ فاطمہ کے نور نظر، حسین(ع) کے ہونٹوں سے کھیلتے ہو؟! میں نے اپنی آنکھوں سے پیغمبر اکرم(ص) کو دیکھا جو حسین(ع) اور اس کے بھائی حسن(ع) کے ہونٹوں کا بوسہ لیتے ہوئے فرما رہے تھے: "آپ دونوں جنت کے حوانوں کے سردار ہیں خدا تمہیں شہید کرنے والے کو ہلاک کرے اور اس پر لعنت بھیجے اور اس کا ٹھکانہ جہنم قرار دے جو بہت بری جگہ ہے۔
اس موقع پر یزید کو بہت غصہ آیا اور اس نے اس شخص کو اپنی محفل سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا پھر اس نے کچھ شعر گنگنانا شروع کیا جسے ابن زبعری نے غزوہ احد کے بعد گنگنایا تھا
لَیتَ أَشْیاخی بِبَدْر شَہدُوا جَزِعَ الْخَزْرَجُ مِنْ وَقْعِ الاَْسَلْ
فَأَہلُّوا وَ اسْتَہلُّوا فَرَحاً ثُمَّ قالُوا یایزیدُ لاتَشَلْ۔
یزید کے اس شعر کے بعد حضرت زینب(س) نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔
Khutba Bibi Zainab s.a in Sham
Bibi Zainab a.s sermon in darbar e yazeed
Syeda Zainab binte Ali s.a Sermon
Sermon of Zainab binte Ali a.s
Bibi Zainab ka khutba
Salam Ya Ali (a.s) Madad.
Please do subscribe Channel to support Syed Kazim for more videos about Mohammad o Aale Mohammad (a.s).
Ya Ali Ya Husain ع
Syed Kazim is founder of Fikar e Hussain Network. Passionate about spreading the words about greatest saviour of humanity Imam Husain (a.s) and knowledge about Mohammad o Aale Mohammad (a.s).
#SermonofLadyZainab #BibiZainab #SyedKazim