ذیل میں فرائیڈ ونگ اور ڈاک لا کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہاہے تا کہ طالب علم نفسیاتی تنقید کے حوالے
دامن میں مز یا
ان کے ادبی نظریات سے بخوبی واقف ہوسکیں ۔
فرائڈ کا نظریۂ لاشعور اور تحلیل نفسی
مترادف قر
مجھ ایسے شخص کے لیے کسی شغل کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہے ۔ ایک ایسا جذ بہ جوروح کوکھلا کر رکھ دے اور جوشکار
کے الفاظ میں قاہراور جابر بھی ہو۔ میں نے بھی اپنے جابر کو ڈھونڈ لیا ہے اور اس کی خدمت گزاری میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ کی۔ لاشعو
میر اجابر ہے نفسیات جو ہمیشہ سے میری منزل مقصودرہی ہے۔ (فرائڈ بنام ول مسیلم فلس نوشته : ۲۵ مئی ۱۸۵۹ء)
فرائڈ نے نفسیات کے لیے اپنی محبت کے جس جذ بہ کو قاہر اور جابر سے تعبیر کیا ہے وہ محض عام قسم کی محبت تھی بلکہ استعمال میں
فرائڈ نے زندگی وقف کر دینے کے بعد نفسیات کو جن نظریات اور مسائل اور موضوعات سے روشناس کرایا ان کی اہمیت | منوں میں
زمانے کے ساتھ کم ہونے کی بجاۓ بڑھتی جارہی ہے۔ یہ فرائڈ کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ آج نفسیات سے انسانی زندگی
کا ہر شعبہ متاثر ہورہا ہے۔ جیسے کہ سطور بالا میں واضح کیا گیا۔ فرائڈ سے بہت پہلے مفکرین لاشعور سے آگاہ تھے لیکن فرائڈ کی
جدت فکر اور ذاتی ایج کا یہ کمال ہے کہ اس نے جن کئی راہوں کی طرف اشارہ کیا ان پر اب تک اہل قلم گامزن ہیں ۔ ایک استعال
وقت تھا کہ اس کی کتابوں کی طرف خاص توجہ نہ دی جاتی تھی (اس کی سب سے مشہور اور نظریہ ساز کتاب
"Interpretation of Dreams" کا پہلا ایڈیشن چار سالوں میں فروخت ہوا تھا لیکن آج فرائڈ اور اس کے
نظریات کی تشریح وتعبیر اور تر دید و مذمت میں بلا مبالغہ ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ اب فرائڈ کے نام
اعصاب
ن